مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات میں کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے بار بار حملوں کے باوجود ایران سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ ترک نہیں کرے گا، تاہم تنازع کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کیا جائے اور یک طرفہ پالیسیوں سے گریز کیا جائے۔
تفصیلات کے مطابق، صدر پزشکیان نے ترکمانستان کے شہر ترکمن باشی میں آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے سربراہی اجلاس اور بحیرہ کیسپین کے ماحولیاتی اجلاس کے موقع پر روسی صدر سے ملاقات کے دوران کہا کہ ایران امریکہ کے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے، لیکن ہر بار بات چیت کے دوران امریکہ نئے حملے شروع کر دیتا ہے۔ اس کے باوجود تہران مذاکرات کی میز نہیں چھوڑے گا۔
انہوں نے بتایا کہ ایران اور امریکہ کی جانب سے تجاویز کا تبادلہ ہوا ہے اور دونوں فریقوں کی تجاویز میں ترامیم بھی کی گئی ہیں۔ ان تجاویز کو حتمی شکل دینے کے بعد ایران متعلقہ ثالثوں کے ساتھ بیٹھ کر معاملات کو یکجا اور حتمی طور پر طے کرنا چاہتا ہے۔
صدر پزشکیان نے یک طرفہ پالیسیوں کی مخالفت میں روس کے مستقل مؤقف کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔ انہوں نے علاقائی سطح اور اقوام متحدہ میں روس کے مؤقف اور عالمی سطح پر یک طرفہ پسندی کی روک تھام میں اس کے کردار پر شکریہ ادا کیا۔
ایرانی صدر نے زور دیا کہ ایران کا مقصد تنازع ختم کرنا اور بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں ایرانی قوم کے حقوق کا احترام یقینی بنانا ہے، لیکن اگر امریکہ یک طرفہ پالیسیوں پر اصرار کرتا رہا تو یہ مقصد حاصل کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے تہران اور ماسکو کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت، معیشت اور عوامی سطح پر تعلقات سمیت مختلف شعبوں میں تعاون آگے بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مشترکہ طے شدہ پروگراموں پر عمل درآمد تیز کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور امید ظاہر کی کہ دونوں ممالک کے درمیان حاصل ہونے والی ہم آہنگی تعاون کو مزید فروغ دے گی۔
پزشکیان نے مزید کہا کہ دنیا اور خطے کو یک طرفہ پسندی کے بجائے کثیرالجہتی نظام کی طرف بڑھنا چاہیے۔ ان کے بقول، امریکہ اپنی پالیسیاں اور نظریات دیگر ممالک پر مسلط کرنے اور اپنی بالادستی قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، حتی کہ وہ اپنی داخلی پالیسیوں کا بھی دوسرے ممالک کو پابند بنانا چاہتا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے پزشکیان سے ملاقات پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ روس اور ایران کے درمیان متعدد مشترکہ اسٹریٹجک منصوبے اور پالیسیاں موجود ہیں، جن میں روز بروز وسعت آ رہی ہے۔
پیوٹن نے رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا اور ان کی صحت و کامیابی کے لیے دعا کی۔ انہوں نے علاقائی مسائل کو سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
روسی صدر نے کہا کہ خطے کا بنیادی مسئلہ موجودہ بحران کا حل ہے، جسے شروع کرنے میں اسلامی جمہوریہ ایران کا کوئی کردار نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ متعدد ممالک سفارتی کوششوں کے ذریعے جنگ ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور ایران نے بھی تنازع کے خاتمے کے لیے نئی تجاویز پیش کی ہیں۔
پیوٹن کے مطابق، بحران کے حل کے حوالے سے روس کا مؤقف بالکل واضح ہے اور ماسکو سفارتی ذرائع سے اس بحران کے خاتمے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گا۔
آپ کا تبصرہ